ایک نظر میں

  • سن تاسیس ۱۰ شوال المکرم ۱۳۷۸ ھ
  • بانی جامعہ داعی حق الحاج حضرت مولانا محمد سعید خان صاحب رحمة اللہ علیہ
  • سرپرست اعلیٰ حضرت مولانا سید محمدرابع حسنی ندوی (ناظم ندوة العلماءلکھنو)

جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم

کاشف العلوم مدرسہ سے جامعہ تک

مدرسہ عربیہ کاشف العلوم کا قیام ۱۰شوال المکرم ۱۳۷۸ ھ مطابق ۱۹اپریل ۱۹۵۹ میں داعی حق حضرت مولانا سعید خان صاحب نوراللہ مرقدہ کے دست مبارک سے ہوا تھا ابتدا بڑی کسم پرسی کی حالت میں ہوئی تھی۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھ کر جب مدرسہ شروع ہوا تو جامع مسجد کے اطراف کے کچھ کمروں کے ذریعہ اور گنتی کے طلبا اور اساتذہ کے ساتھ لیکن بانی جامعہ کے اخلاص او للہیت کی وجہ سے انہیں ایسے مخلص اور جاں نثار ساتھی میسر آگئے جنہوں نے اپنا سب کچھ مدرسہ کی ترقی کے لئے وقف کردیا۔ سبزی منڈی کے پھلوں اور ترکاریوں کا کاروبار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قبولیت عطا کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنے دین کا یہ عظیم الشان کام لیا کہ ایک چھوٹا سا مدرسہ ایک سائباں جامعہ کی شکل میں پورے علاقہ مرہٹواڑہ میں سایہ فگن ہوگیا۔ ان میں قابل ذکر الحاج نو رمحمد حاجی محمد عثمان صدر مجلس عاملہ اور اراکین مجلس عاملہ ہیں۔ بانی جامعہ حضرت مولانا سعید خان صاحب کی نظر فراست نے اس مدرسہ کے لئے ایک ایسے ناظم کا انتخاب کیا۔ جن کے اخلاص اور عالی ہمت نے اسے چھوٹے سے مدرسہ کو ایک بڑے جامعہ کی شکل دے دی اور اس چمن میں انہو ںنے ایسے مہکتے ہوئے پھولوں کو یکجا کردیا جس کی مہک سے پوا ملک مہک رہا ہے۔ حضرت مولانا محمد ریاض الدین فاروقی ندوی حفظہ اللہ نے جب اس مدرسہ کی باگ ڈور سنبھالی تو مدرسہ صرف جامع مسجد کے چند کمروں کا نام تھا۔ مسجد کے بقیہ کمرے بھی دوسرے لوگوں کے قبضے میں تھے۔ جو اوقاف کے کرایہ دار تھے۔

لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے او رحضرت ناظم کی حکمت سے تمام کمرے اس وقت کاشف العلوم کے طلبائ کی رہائش گاہ میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

اسی طرح تعمیراتی کاموں میں حضرت ناظم صاحب نے سب سے پہلے درسگاہ کی سخت ضرورت محسوس کی اور صرف اور صرف اللہ کے بھروسہ پر درسگاہ کی عمارت ۲ منزلہ درسگاہ سعید کے نام سے تعمیر کی گئی۔ جس میں الحمد اللہ مدرسہ کی تمام کلاسیس جاری وساری ہے۔ اس کے بعد طلبائ کے قیام کی تکالیف اور طلبائ کا کثرت سے مدرسہ کی طرف رجوع کی وجہ سے قیام کے لئے مسجد کے کمرے اور اپنی تنگ دامنی کی شکایت کرنے لگے تو حضرت والا نے اپنے رفقائ کے ساتھ خاص طور پر الحاج سید نعیم الدین صاحب حفظ اللہ کی نگرانی میں رواق ابوالحسن کی بنیاد رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے دیکھتے ہی دیکھتے اس عمارت کو بھ مکمل فرمادیا۔ اور طلبائ کے قیام کا مسئلہ بڑی حد تک قابو میں آگیا۔ لیکن ابھی حفظ کے طلبائ کے لئے مزید رہائش گاہ او رکلاس روم کی ضرورت محسوس کی جانی لگی۔ اس طرح اور ادھر کئی سالوں سے حجاج کرام کے ذمہ دار حج بیت اللہ کے لئے کاشف العلوم میں سے روانہ ہونے لگے تھے ان کے قیام کا مسئلہ بھی در پیش تھا۔ ان تمام مسائل کو دیکھتے ہوئے جامع مسجد کےہی کے جنوبی رواق سعید کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ جس کے نچلی منزل پرشہر کا سب سے بڑا وسیع ہال تعمیر کیا گیا اور اوپر منزل پر کموروں کی تعمیر عمل میں آئی اور پورا شعبہ حفظ اس عمارت میں منتقل ہوگیا۔ اس طرح اس عمارت میں شعبہ عصریہ بھی منتقل کیا گیا۔

جس میں عصری مدارس کے تقریباً ساڑھے تین سو طلبائ اپنی عصری تعلیم کے ساتھ حفظ کی سعادت ے فیض یا ب ہور ہے ہےں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ناظم صاحب اور ان کے رفقائ کار کے ذریعہ عالیشان جامع مسجد ہی کے احاطے میں کروڑوں کی عمارتوں کو اپنے دست غیب سے تعمیر کروادیا ورنہ بڑے بڑے سرکاری امداد رکھنے والے ادارہ بھی یہ کام نہ کرسکے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی کے فضل وکرم سے مدرسہ کے لئے ممبئی ہائے وے پر پندرہ ایکٹر زمین خریدی گئی اس قیمتی زمین پر اللہ کے ایک مخلص بندہ نے اپنی والدہ صاحبہ کے لئے ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کروائی۔ او راس جگہ پر شعبہ حفظ کے طلبائ کے لئے ایک ۲ منزلہ عظیم الشان عمارت تعمیر کی گئ۔ جس میں تقریبا۱۰۰ سے زائد طلبائ حفظ قرآن کی سعادت سے فیض یاب ہورہے ہےں۔اور ان کے اساتذہ کے لئے ایک عمارت اسٹاف کا کوارٹرس کی تقریباً مکمل ہونے میں ہے۔ اس میں۴اساتذہ کرام کے لئے ۳ روم کچن اور تمام سہولتوں سے آراستہ رہائش گاہ تعمیر کی گئی۔

جس میں پرائمری کا مستقل شعبہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ ہرسول کے علاقہ جٹواڑہ ایک اللہ کے بندہ جناب ھشام عثمان صاحب نے ایک ایکٹر زمین مدرسہ کے لئے وقف کی اس کی زمین پر پوری بائونڈری وال کا کام کے ساتھ ساتھ ایک شاندار مسجد بھی تعمیر کردی گئی۔ اس کے ساتھ الحمد اللہ ۵ لڑکیوں کے ادارہ جاری وساری ہے۔ جو مدرسہ کی ذاتی ملکیت اور اس میں تقریباً آٹھ سو طالبات علوم نبوت سے آراستہ ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ جامع مسجد جو پورے شہر کی رونق ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی شان ہے اس پر چارسو سال گذر جانے پر اپنی خستگی اور کہنگی کا شکوہ کررہی تھی۔ اس کی مرمت کا کام شروع ہوا اور اس کے چھت کو چھل کر نیا سلیپ ڈالا گیا۔ اللہ کے کچھ محبوب بندوں نے اس کام کو اپنے سرلا۔ جو نہ کسی شکریہ کے محتاج نہ کسی واہ واہ کے طالب صرف اللہ کی رضا کے لئے انہوں نے اتنا بڑا کام انجام دے دیا اور اس کے بعد مسجد کے اندرونی حصے کا کام بڑی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ یہ تو جامعہ کاشف العلوم کے تعمیراتی کاموں پر صرف ایک اچٹتی نگاہ تھی ۔

لیکن اصل اس کی روح اس کا تعلیمی نظام ہے۔ جس نے اس ادارہ کو پورے ایشیائ میں ممتاز کردیا۔ حضرت ناظم صاحب کی قیادت میں اللہ تعالیٰ نے ایسے اساتذہ کرام کو یہاں جمع کردیا۔ جن کی وجہ سے یہ مدرسہ بہت جلد جامعہ کی شکل میں تبدیل ہوگیا ۔

جن میں قابل ذکر ذکر للہیت وتقویٰ کا پیکر حضرت ناظم صاحب کےساتھ رہنے والے مہتمم حضرت مولانا مجیب الدین قاسمی ہے جنہوں نے ہر لمحہ جامعہ کی ترقی میں ناظم صاحب کے ساتھ زبردست کردار نبھایا اسی طرح اس کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور ترقی تک پہنچانے میں صدر مدرس جامعہ مولانا محمد نسیم الدین مفتاحی، مولانا مفتی محمد نعیم مفتاحی، مولانا سید فخر عالم قاسمی،مولانا عبدالقدیر مدنی،مولانا محمد علیم الدین ندوی اور مولانا کلیم الدین ندوی اور تمام اساتذہ کرام اور دیگر اساتذہ کرام کی شبانہ محنت شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے شایان شان جزائے خیر عطافرمائے۔ جبکہ شہر اورنگ آباد میں مولانا محمد ریاض الدین فارقی ندوی نے اپنے رفقا کار کے ہمراہ اس ادارہ کی باگ دوڑ سنبھالی اس سفر میں حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی اور بعد میں حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی جیسے جید علمائ کی سرپرستی ادارہ کو ہمیشہ حاصل رہی۔ ان بزرگ علمائے کرام کی حوصلہ افزائی کے بغیر اس ادارہ کی کامیابی وترقی کا تصور بھی ناممکن تھا۔۔

تعمیر وترقی

تعمیر وترقی

تعمیر وترقی: اس شعبہ کا مقصد یہ ہے کہ عوام وخواص کو جامعہ کے تعارف اور اس کے اغراض ومقاصد ا ورمنصوبوں سے آگاہ کیا جائے اور سرمایہ کی فراہمی کی کوشش نیز جامعہ کے سفرائ کی ترتیب کے ساتھ ان کے متعلقہ امو رکی نگرانی کی جائے۔

جامعہ ایک نظر میں

ایک نظر میں

سن تاسیس ۰۱ شوال المکرم ۸۷۳۱ ھ

بانی جامعہ داعی حق الحاج حضرت مولانا محمد سعید خان صاحب رحمة اللہ علیہ

سرپرست اعلیٰ حضرت مولانا سید محمدرابع حسنی ندوی (ناظم ندوة العلماءلکھنو)

صدر مجلس عاملہ الحاج نور محمد حاجی محمد عثمان صاحب

ناظم جامعہ حضرت مولانا محمد ریاض الدین فاروقی ندوی صاحب

جامع مسجد

جامع مسجد تاریخ کے آئینہ میں

جامع مسجد اورنگ آباد پہلی مرتبہ ملک عنبر رحمة اللہ علیہ نے ۳۲۰۱ھ میں مطابق ۵۱۶۱ئ میں تعمیر کی ، ملک عنبر رحمة اللہ علیہ کی مسجد شمالاً و جنوباً ۵ کمانوں اور شرقاً و غرباً ۳ کمانو پر مشتمل تھی ۔ اورنگ زیب رحمة اللہ علیہ نے تقریبا ۰۵۶۱ئ میں اس کی توسیع فرمائی شمالاً وجنوباً ۳۳کمانو ں کا اور شرقاً و غرباً ۲۲کمانو ں کا اضافہ فرمایا ۔اس طرح جامع مسجد ۵۵ کمانوں پر مشتمل ہوگئی۔اور مسجد کے اطراف میں ان ہی دنوں میں اورنگ زیب رحمة اللہ علیہ نے ۷۴کمرہ جات تعمیر فرمائے۔

جب اورنگ زیب رحمة اللہ علیہ۸۵۶۱ئ میں بادشاہ بن کر دہلی منتقل ہوگئے تو یہ کمرے جالنہ شہر کے دو بزرگوں ،حضرت جان اللہ شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ اور باب اللہ شاہ رحمة اللہ کے مدرسہ کے لئے دیدئے گئے ۔اس کے بعد ایک عرصہ تک یہ کمرے خالی رہے ۔مرحوم الحاج عبد الستار صاحب رحمة اللہ کی کوششوں سے ان کمروں میں کالج کے مسلم طلبہ کا ہاسٹل قائم کیا گیا ،تھوڑے دنوں کے بعد یہ ہاسٹل بھی بند ہوگیا ۔

اللہ تعالیٰ کی شان کریمی کو مسلمانان مراہٹواڑہ پر رحم آیا اور محترم الحاج مولانا محمد سعید خان صاحب رحمة اللہ علیہ کو اس نے توفیق اور حوصلہ عطا فرمایا اور انہوں نے ۹۵۹۱ئ میں مدرسہ کاشف العلوم کے نام سے جامع مسجد کے چند کمروں میں مدرسہ کی بنیاد رکھی ۔ابتداءحفظ قرآن کے شعبہ سے کی گئی ،اللہ تعالیٰ نے حضرت سعید خان صاحب رحمة اللہ علیہ کی اس سعی کو شرف قبولیت سے نوازا اور ان کی سرپرستی اور مجلس عاملہ و ناظم جامعہ حضرت مولانا محمد ریاض الدین فاروقی ندوی حفظہ اللہ اور ان کے رفقاءکی محنت اور کاوش سے یہ چھوٹا سا مدرسہ اب علاقہ مراہٹواڑہ کا سب سے بڑا جامعہ (یونیورسٹی) بن گیا ۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت کو ایک بارپھر جوش آیا جامع مسجد کی مرمت کا حوصلہ اس نے دو جواں سال کنٹراکٹرس کو عطا فرمایا ۔ان میں ایک جناب بسم اللہ خان صاحب کے ولی عہد محترم انور خان مالک ایلورہ کنسٹرکشن اور دوسرے الحاج عبد الغفور صاحب راجستھانی کے ولی عہد محترم اسلم خان کو اس عظیم کام کے لئے قبول فرمایا اور دونوں کو ہمت اور حوصلہ عطا فرمایا ،ان دونوں نے جامع مسجد کا پورا پلاسٹر چھت کے گنبدوں سے لیکر فرش تک چھیل کر ۷ فٹ تک عمدہ خوبصورت گرے نائٹ سے مسجد کی دیواروں کو اور ستونوں کو آراستہ کیا اور اوپر کا کام کیمیکل پلاسٹر کے ذریعہ مکمل فرمایا ۔اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حضرات اور مسلمانان اورنگ آباد کو جامع مسجد کے کمروں کی مرمت اور ریپر کے لئے قبول فرمایا او ر ان کمروں کی مرمت کا کام جاری ہے ۔

انشاءاللہ ملک عنبر رحمة اللہ علیہ اور اورنگ زیب رحمة اللہ کے ساتھ ان سب حضرات کا نام جامع مسجد کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ جاوید رہے گا۔