کاشف العلوم مدرسہ سے جامعہ تک

مدرسہ عربیہ کاشف العلوم کا قیام ۱۰شوال المکرم ۱۳۷۸ ھ مطابق ۱۹اپریل ۱۹۵۹ میں داعی حق حضرت مولانا سعید خان صاحب نوراللہ مرقدہ کے دست مبارک سے ہوا تھا ابتدائ بڑی کسم پرسی کی حالت میں ہوئی تھی۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھ کر جب مدرسہ شروع ہوا تو جامع مسجد کے اطراف کے کچھ کمروں کے ذریعہ اور گنتی کے طلبائ اور اساتذہ کے

  • منشور کاشف
  • جامع کی شاخیں
  • یہ ماہنامہ جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم اورنگ آباد کا ترجمان ہے جس کا مقصد معاشرہ میں دینی بیداری صالح معاشرہ کی تشکیل اور کتاب وسنت کی تعلیمات سے امت مسلمہ کو روشناس کرانا ہے۔

    مدرسہ الیاس، آزاد چوک اورنگ آباد
    میر جنگو مسجد لوٹا کارنجہ اورنگ آباد
    مسجد غلام غوث اورنگ آباد
    شعبہ حفظ مظفر نگر ہرسول اورنگ آباد
    مدرسہ عربیہ کاشف العلوم

    بقرعید کی تعطیلات کے بعد مدرسہ دوبارہ شروع ہوچکا ہے۔ تمام طلبات سے گذارش ہے کہ جلد از جلد واپس آنے کی فکر کریں۔

    تمام ملحقہ مکاتیب کے معلمین، طلبا وطالبات کو انتباہ کیا جاتا ہے کہ مدرسہ کے دوران موبائل کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    مجلس عاملہ: جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم اورنگ آباد ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کارجسٹریشن نمبر519 ہے اور مجلس عاملہ اس جامعہ کی اعلی اختیارات کی حامل مجلس ہے