tarana

ترانہ جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم

جناب قاضی سلیم

تیرے اک چراغ سے ہزارہا جلے چراغ

دین حق کے فیض سے کھلے ہیں پھول باغ باغ

پھول اور باغباں ہیں مثال جسم و جاں

علم کا یہ کارواں جاوداں رواں دواں

تیرا فیض بے کراں، تیرا فیض بے کراں

أسوۂ رسول سے سنور گئے، نکھر گئے

رحمتوں کی بارشیں ہیں ہم جدھر جدھر گئے

سوز و ساز دو جہاں، ہر نگاہ سے عیاں

علم کا یہ کارواں جاوداں رواں دواں

تیرا فیض بے کراں، تیرا فیض بے کراں

ہم وہی ہیں جب بڑھے ہیں مشکلوں کے درمیاں

وہ یقیں خدا پہ ہے جلا دیں اپنی کشتیاں

بار بار امتحاں، لے رہا ہے آسماں

علم کا یہ کارواں جاوداں رواں دواں

تیرا فیض بےکراں، تیرا فیض بے کراں